حزب اللہ:

            جبل عامل کی سرزمین پر قائم عرب دنیا کی معروف مسلم عسکری تنظیم جس نے طاقت کے نشے میں چور جارح اسرائیلی افواج کے دانت کھٹے کیے، اولا جس نے اسرائیل کی حمایت میں لبنان میں براجمان امریکی اور اس کی اتحادی افواج کو فرار پر مجبور کیا اورثانیا اسرائیلی افواج کو اپنی زمین سے جان بچا کر بھاگتا کیا۔

            ابتدا یہ تنظیم صرف شیعہ مجاہدین پر مشتمل تھی تاہم نوے کی دہائی میں اس تنظیم کے دروازے دیگر لبنانیوں کے لیے کھولے گئے۔ جن میں عیسائی ، اہلسنت اور دروز شامل ہیں۔حزب اللہ کا آغاز ایک بہت چھوٹے سے گروہ سے ہوا ،تاہم آج اس کا شمار نہ صرف اس خطے بلکہ دنیا بھر کی منظم ترین تنظیموں میں ہوتا ہے۔آج حزب اللہ لبنانی پارلیمنٹ کے موثر ترین اتحاد جسے ” ۸ مارچ کے اتحاد“ کے نام سے جانا جاتا ہے کی سربراہی کر رہی ہے۔

حزب اللہ کا اپنا ریڈیو اور سیٹلائیٹ ٹی وی چینل ہے، نیز حزب اللہ کے سماجی و معاشی ترقی کے منصوبے اس تنظیم کو تمام معاصر مسلم عسکری و غیر عسکری تنظیموں سے ممتاز کرتے ہیں۔ حزب اللہ کے تحت متعدد شعبہ جات مختلف سماجی خدمات سر انجام دے رہے ہیں جن میں موسسہ شہدائ، جہاد البنائ، موسسہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر، موسسہ قضا،صحت عامہ کے ادارے، زرعی ترقیاتی مراکز ،ہسپتال ، ڈسپنسریاں، پارک، تعلیمی ادارے قابل ذکر ہیں۔سی این این کی ایک ڈاکومنٹری ”حزب اللہ کا خفیہ ہتھیار “کے مطابق حزب اللہ اپنے معاشرے کے لیے وہ سب کام انجام دیتی ہے جو کو ئی بھی حکومت اپنے شہریوں کی فلاح کے لیے کر سکتی ہے۔ ان کاموں میں کوڑا اکٹھا کرنے سے لے کر ہسپتال چلانا اور سکولوں کی مرمت تک شامل ہیں۔(۱)

لبنا ن کی فرقہ وارانہ تاریخ:

ترک خلافت کے خاتمے کے بعد لبنان کی سرزمین فرانس کے حصے میں آئی۔لبنانیوں نے فرانسیسی افواج کے خلاف متعدد محاذ قائم کیے جس کے سبب ۳۴۹۱ میں لبنا ن ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔(۲)تاہم یہ آزادی فرانس اور مارونی عیسائیوں کے نفوذ اور تسلط کے زیر سایہ تھی۔اس آزادی کے سبب لبنان میں جو نظام قائم ہوا اسے طائفی یا فرقہ وارانہ نظام کہا جا سکتا ہے ۔جہا ں طاقت کا سرچشمہ لبنان کے عیسائی تھے۔لبنان میں ۵۱ فرقوں کے لوگ آباد ہیں جن میں بڑے تین فرقے عیسائی، اہلسنت اور شیعہ قابل ذکر ہیں۔لبنان کے دستور کے مطابق حقوق و مراعات کی تقسیم کے وقت پانچ ، تین اور دو کی نسبت سے تقسیم کی جاتی ہے۔ یعنی پانچ حصے عیسائیوں کے، تین حصے اہلسنت کے اور دو حصے اہل تشیع کے لیے مختص ہیں۔(۳)حالانکہ شیعہ آبادی کے لحاظ سے لبنان کا سب سے بڑا فرقہ ہیں۔۰۶ کی دہائی تک شیعہ اکثریتی علاقوں میں سیاست کی باگ دوڑ چند وڈیروں کے ہاتھوں میں تھی۔ جو اپنے علاقوں میں سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ اس جاگیرداری نظام کے سبب لبنان ، کویت ، شام ، بحرین اور سعودیہ کے شیعوں کی ایک کثیر تعداد بائیں بازو کی جماعتوں اور کیمونسٹ تنظیموں کی جانب راغب ہوئی۔ان تنظیموں میں شام کی ایس ایس این پی،لبنان کی کیمونسٹ پارٹی، کیمونسٹ لیبر ایکشن کی تنظیم اور سوشلسٹ عرب بعث پارٹی زیادہ اہم ہیں۔(۴)یہ جماعتیں شیعہ نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتیں اور ان کی موت کے بعد اپنے کارناموں کی فہرستیں غیر ملکی آقاﺅں کو بھیج کر ان کے نام پر پیسے وصول کرتیں۔اس پر مستزاد فلسطینی مجاہدین کے خانماں برباد قافلوں کی آمد اور اسرائیلی طیاروں کی بمباریوں نے رہتی سہتی کسر بھی نکال دی۔

 امام موسی صدر:

سید موسی صدر ساٹھ کی دہائی میں ایران سے لبنان آئے۔آپ کے اجداد کا تعلق اسی سرزمین سے تھا۔موسی صدر نے اشرافیہ کے ہاتھوں سے اقتدار کی باگ دوڑ چھین کر عام لوگوں کو قوی کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ان کا کہنا تھا:

جب بھی غریب سماجی انقلاب کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ ظلمت کے دن گنے جا چکے ہیں۔(۵(

سید موسی صد ر کے اولین کارناموں میں سے ایک کارنامہ لبنان کے شمالی قصبے برج الشمالی میں فنی تعلیم کے ایک ادارے کا قیام ہے ۔ جس نے سینکڑوں بے روزگار اور خانماں برباد یتیموں کو چھت اور روزگار مہیا کیا، نیز یہ ادارہ موسی صدر کے نظریات کی اولین درسگاہ ٹھہرا۔ جہاں کے الہی تعلیمات سے آراستہ نواجوانوں نے آگے چل کر لبنان کی تاریخ میں بہت اہم کام سر انجام دئے۔ موسی صدر اس اہم کام کے بعد علاقے کے محرومین کے بنیادی حقوق کی واگزاری کے لیے سرگرم ہو گئے۔ اسی ھدف کے پیش نظر آپ نے ۹۶۹۱ میں مجلس الاسلامی الشیعی الاعلیقائم کی اور اس کے وجود کو لبنان کی پارلیمنٹ سے منظور کروایا ۔ (۶)اس تنظیم کا قیام موسی صدر کی حیثیت اور تاثیر کا حیران کن ثبوت تھا۔اس تنظیم نے اپنے قیام کے ساتھ ہی اصلاحات کے مطالبات حکومت لبنان کے سامنے رکھ دئے۔ جس میں تعلیمی، عسکری ، دفاعی ، حفظان صحت سے متعلق مطالبات قابل ذکر ہیں۔ ان مطالبات کے حصول کے لیے موسی صد ر نے کئی مظاہرے اور بھوک ہڑتالیں کیں۔آپ کے سیاسی اقدامات میں مجلس جنوب کا قیام اور بیس مطالبات قابل ذکر ہیں۔ان تمام اقدامات پر عوامی حمایت کے حصول کے لیے موسی صدر نے ۳۷۹۱ میں ” حرکت محرومین“کے قیام کا اعلان کیا۔(۷) موسی صدر کے اب تک کے اقدامات نے لبنان کے شیعوں میں آپ کا احترام اور چاہت اس حد تک راسخ کر دیا تھا کہ آپ کے اعلان کے ساتھ ہی بوڑھے ، جوان اور بچے حرکت محرومین کے دفاتر کے باہر ممبر سازی کے لیے جمع ہو گئے۔حرکت محرومین کے منتطم ڈاکٹر مصطفی چمران عوامی جوش و جذبے کو ان الفاظ میں قلمبند کرتے ہیں:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نوجوان بائیں بازو کی جماعتوں کو چھوڑ کر اس تنظیم میں شامل ہونا شروع ہو گئے۔یہ تنظیم عقیدے کی اساس اسلامی نظریات کی بنیاد پر متشکل ہوئی۔ ہر شخص اپنے اندر ایک طوفان محسوس کرتا اور اشک بہاتا۔ لوگ قصبوں اور دیہاتوں میں حرکت محرومین کے دفاتر کے سامنے جمع ہو کر اپنا نام لکھواتے ۔ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ان سب کو قبول کریں ۔ کیونکہ ہم جانتے تھے کہ ہم ابھی اتنے منظم نہیں ہیں کہ اتنے سارے لوگوں کی تربیت کر سکیں ۔

ہم نہیں چاہتے تھے کہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ایک نئی دکان بنا کر بیٹھ جائیں ۔جس کا کام دروغ بافی ، تہمت تراشی ، ہیراپھیری اور حکومتوں سے سودے بازی یا مفادات کی تقسیم ہو۔ ہماری تحریک کا ستون خدا پر ایمان تھا۔اس تحریک کا لبنان کے رواجی دین سے دور دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔(۸)